اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، جمعیت علمائے ہند کا اجلاس بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے علاقے چاندوا ٹوری میں مدرسہ خیرالعلوم میں منعقد ہوا، جس میں علما، سماجی شخصیات، مقامی عہدیداروں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت، اختلافات کا مقابلہ کرنے، نوجوان نسل کی تعلیم پر توجہ دینے، مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط بنانے اور بھارتی معاشرے میں پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سید تہذیب الحسن رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کا اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق، مسلم اقوام کو درپیش چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ دینی اقدار پر توجہ دینی چاہیے اور اختلافات و انتشار سے گریز کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانا چاہیے۔
سید تہذیب الحسن رضوی نے ایران کی جدوجہد اور مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے مسلمانوں کی شجاعت، ثابت قدمی اور مزاحمتی جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے بقول، یہ صلاحیت مسلمانوں کی عزت بحال کرنے، ان کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور خود اعتمادی کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری شاہ عمیر نے بھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور باہمی ہمدردی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
جمعیت علمائے ہند کے ایک اور عہدیدار مولوی کلیم الدین نے مسلمانوں کو درپیش تعلیمی مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے میدان میں پسماندگی اس برادری کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی اور مؤثر اقدامات پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام اختلاف اور انتشار کا نہیں بلکہ اتحاد، یکجہتی اور اجتماع کا درس دیتا ہے۔
مولوی ڈاکٹر سلمان قاسمی نے بھی مسلمانوں کے اتحاد اور تنظیم کو درپیش خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے اختلافات کو پسِ پشت ڈالنے اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔
مولوی طلحہ ندوی نے اتحاد کے فروغ میں علما کے کردار اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے مسلم معاشرے پر زور دیا کہ وہ برادرانہ تعلقات مضبوط بنائے، اختلافات پھیلانے سے گریز کرے اور باہمی ہمدردی کے جذبے کو فروغ دے تاکہ زیادہ مضبوط یکجہتی حاصل کی جاسکے۔
اجلاس کے دیگر مقررین نے بھارت میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان بقائے باہمی کی تاریخی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے مشترکہ ثقافت، جسے ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ کہا جاتا ہے، کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان دوستی اور برادری کے فروغ کو سماجی ہم آہنگی کے لیے اہم قرار دیا اور پُرامن بقائے باہمی کی روایت برقرار رکھنے کے لیے مزید کوششوں کی اپیل کی۔
اجلاس کے اختتام پر منتظمین نے علما، سماجی شخصیات، مقامی عہدیداروں، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور دیگر شرکا کی آمد اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
آپ کا تبصرہ